نیورو سائنسدانوں نے کیسے جانا کہ دماغ کا کون سا حصہ کیا کام کرتا ہے؟

 نیورو سائنس دانوں نے کیسے جانا کہ دماغ کا کون سا حصہ کیا کام کرتا ہے؟

                                                     


جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو میں اکثر یہ سوچتا تھا کہ دماغ کا کون سا حصہ کیا کام کرتا  ہے اخر نیورو سائنسدانوں نے کیسے جانا کیونکہ دماغ بہت پیچیدہ ہے جس  کا تجزیہ کرنا بہت مشکل ہے میرا تجسس اور بڑھتا گیا اور میں نے اس پر  مطالعہ کرنا شروع کیا  یہ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں چیزوں کو سمجھنا بہت اسان ہے لیکن اگر ہم ماضی میں چلے جائیں تو  اسان نہیں تھا

                       دماغ کا کون سا حصہ کیسے کام کرتا ہے؟


   کئی سال پہلے دماغ ایک راز تھا

  جب کوئی ایسی مشین نہیں تھی جس سے  انسانوں کے دماغ کو دیکھا جا سکتا جیسے سی ٹی سکین ctscan ایم ار ائیMRI  وغیرہ

                                      Phineas Gage


  کہانی اصل میں شروع ہوتی  ہے   ایک کارکن جو کہ امریکہ میں 1848 میں ریلوے میں ملازم تھا   اس کا کام یہ تھا کہ وہ چٹانوں میں بارود بھرتا اور ریلوے کے لیے راستے بناتا  ایک دن ایک بہت ہی دل خراش واقعہ پیش ایا کہ گیج ایک لوہے کی سلاخ سے بارود کو ایک سوراخ میں دبا رہا تھا  پھر اچانک سے بارود پھٹا اور وہ لوہے کی  سلاخ اس کے چہرے کے پاس سے ہو کر اس کے سر کے اگلے حصے سے گزر گئی  لیکن حیرت انگیز طور پر وہ بچ گیا وہ باتیں کر سکتا تھا وہ لوگوں کی باتوں کو سن سکتا تھا  لوگوں کو پہچان سکتا تھا لیکن اس کے بعد اس کے رویے میں نمایاں تبدیلیاں واقع ہوئی   اس واقعے کے بعد ڈاکٹروں کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا کہ اگر انسان کے دماغ کے کسی مخصوص حصے کو چوٹ پہنچنے سے رویے میں تبدیلی اتی ہے تو کیا انسانی دماغ کے مختلف حصے مختلف کام کرتے ہیں البتہ یہ جو کچھ بھی ہوا یہ کسی فیصلے کا حتمی جواب نہیں تھا پھر بعد میں اور بھی جو لوگ جن کو کچھ اس طرح کی چوٹ ائی ان سے نتیجے اخذ کیے گئے

                      

                                             Paul Broca

   یہ ایک ڈاکٹر اور سرجن تھا 1861  میں اس کے پاس ایک مریض اتا ہے جس میں ایک عجیب مسئلہ تھا کہ وہ صرف tan بول سکتا تھا   وہ لوگوں کی باتوں کو اچھے سے سمجھ سکتا تھا لیکن اس کے جواب میں کوئی مناسب الفاظ نہیں بول سکتا تھا سوائے ٹین کے  اسی وجہ سے اس کو بعد میں ٹین کے لفظ سے بھی یاد کیا گیا  ڈاکٹر نے بہت ہی اچھے سے اس کا مشاہدہ کیا   اس نے دیکھا کہ اس شخص کی تمام صلاحیتیں غائب نہیں ہوئیں بلکہ کچھ صلاحیتوں کو فرق پڑا ہے جب اس کی موت ہو گئی تو اس ڈاکٹر نے اس کے دماغ کا معائنہ کیا  اور دیکھا کہ اس کی بائیں فرنٹل لوب میں کوئی نقصان ہوا ہے

 اسی طرح سے یہ پتہ چلتا گیا کہ دماغ کے مختلف حصے مختلف کام کرتے ہیں

                                               FMRI 


 اس کے ذریعے سے ہم دماغ کی سرگرمیوں کا مطالعہ کرتے ہیں مثلا کوئی شخص سوچ رہا ہے یا کچھ یاد کر رہا ہے یا پھر کون سا کام کر رہا ہے  یا پھر غصے میں ہو تو دماغ کا کون سا حصہ متحرک ہے یہ ہم کو ایف ایم ار ائی بتاتی ہے مثلا اس دور میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ انسان کون سا کام کرتا ہے تو دماغ کا کون سا حصہ زیادہ فعال ہوتا ہے

                                                 EEG

 اس کے ذریعے سے دماغ میں برقی لہروں کا مطالعہ کیا جاتا ہے یعنی انسان کے سر پر  بہت سارےالیکٹروڈز لگائے جاتے ہیں  جس کے ذریعے سے  دماغ کی برقی لہروں کا مطالعہ کیا جاتا ہے

 دیکھا جائے تو پرانے دور میں ہی نیورو سائنسدان یہ جان چکے تھے کہ دماغ کے مختلف حصے مختلف کام کرتے ہیں لیکن جدید ٹیکنالوجی نے ان سب چیزوں کو سمجھنے میں اور بھی زیادہ مدد کی










تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کیا اے ائی انسانوں کی نوکریاں چھین لے گی؟

کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور کلاؤڈ سٹوریج کیا ہے؟ what is cloud computing and cloud storage