دماغ خود کو کیسے بدلتا ہے؟ نیوروپلاسٹیسٹی کی حیرت انگیز دنیا
کتنی عجیب بات ہے نا کہ دماغ اپنی ساخت اور کام میں تبدیلیاں لاتا رہتا ہے میں نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کوئی شخص جس کو اس بارے میں پتہ نہ ہو وہ بھلا سوچ بھی کیسے سکتا ہے کیا اپ صحیح سن رہے ہیں کیا اب اپ جو سوچ رہے ہیں وہ بالکل صحیح سوچ رہے ہیں جی ہاں یہ بالکل صحیح ہے کہ دماغ اپنی ساخت اور کام میں تبدیلیاں لاتا رہتا ہے
صرف یہ معلومات کو جمع کرنے کی چیز ہی نہیں بلکہ تجربات سیکھنے اور ماحول میں تبدیلی کے ساتھ یہ اپنی ساخت کو بدلتا رہتا ہے اس عمل کو نیوروپلاسٹیسٹی بولتے ہیں ائیے ہم کچھ مثالوں سے سمجھتے ہیں
نابینا شخص
ایک بہت ہی دلچسپ حقیقت کہ ایک نابینا شخص کے بصری حصے بعض دوسرے کاموں میں بھی حصہ لے سکتے ہیں اور یہ بات جدید تحقیق سے ثابت شدہ ہے یہ بھی نیوروپلاسٹیسٹی کی ایک بہت ہی اچھی مثال ہے
سیکھنے کا عمل
جب کوئی انسان کوئی نئی زبان سیکھتا ہے تو اس کے نیورل رابطے اپس میں مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جاتے ہیں اور کچھ ہی وقت کے بعد جب وہ اس کو بار بار پڑھتا ہے تو وہی چیزیں اس کو اسان لگنے لگتی ہیں یہ نیوروپلاسٹی سٹی کی ایک بہترین مثال ہے
نیوروپلاسٹی سٹی دو الفاظ کا مجموعہ ہے نیورو یعنی اعصابی اور پلاسٹی سٹی مطلب تبدیلی مجموعی طور پر اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ دماغ کی تبدیل کرنے کی صلاحیت
اگر میں سائیکل چلانا سیکھوں تو مجھے یہ خیال کرنا پڑے گا کہ ہینڈل کو کس طرف موڑنا ہے اور میں نے بیلنس کو کس طرح سے برقرار رکھنا ہے لیکن کچھ ہی عرصے کی پریکٹس کے بعد ان سب چیزوں کے بارے میں الگ الگ نہیں سوچنا پڑتا ایک اور مثال اگر کوئی انسان کی بورڈ سے لکھنا سیکھ رہا ہے تو اسے پہلے پہل دیکھ دیکھ کر لکھنا پڑے گا پھر اہستہ اہستہ سے وہ کچھ الفاظ کو دیکھے گا اور کچھ الفاظ کو بنا دیکھے ہی ٹائپنگ کرنی شروع کر دے گا پھر دھیرے دھیرے سے اس کی سپیڈ بڑھتی جاتی ہے ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ نیورل رابطے اپس میں مضبوط تر ہوتے جاتے ہیں اور کچھ رابطے ٹوٹتے بھی ہیں
کیا عمر کے بڑھنے کے ساتھ دماغ سیکھنا چھوڑ دیتا ہے
بہت سارے لوگوں سے ایسی باتیں کرتے ہوئے سنا ہے کہ عمر کے ساتھ دماغ سیکھنا چھوڑ دیتا ہے لیکن یہ بالکل ہی غلط ہے ہاں البتہ ایک بات ہے کہ بچپن میں انسان کے دماغ میں بہت تیزی سے تبدیلیاں ہوتی ہیں
حقیقت بہت دلچسپ ہے اور ہم ایک مثال سے سیکھتے ہیں
مثال کے طور پر میں نے پائتھن کو سیکھنا ہے اور جب میں ابھی شروعات میں ہوں گا تو مجھے کچھ چیزیں بھول جائیں گی اور کچھ یاد رہیں گی اور پھر اہستہ اہستہ سے وہی چیزیں مجھے یاد ہو جائیں گی جو شروع میں مجھے مشکل لگتی تھی
کچھ ہی عرصے کے بعد میں وہ پروگرام بھی لکھنے لگوں گا جو کہ مجھے شروعات میں ایسے لگتے تھے کہ جیسے شاید میں کبھی ان کو لکھ نہیں پاؤں گا یا مجھے لکھنے میں بہت وقت لگے گا یہ دماغ کی تبدیلی ہی تو ہے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں