کیا ہم دماغ سے کمپیوٹر چلا سکتے ہیں ؟
کیا ہم دماغ سے کمپیوٹر چلا سکتے ہیں ؟
کلاس روم میں سلام کے بعد اور تھوڑی سی گفتگو ہوئی اور پھر لیکچر کا اغاز اج کل ایک ٹاپک انٹرنیٹ پر بہت زیادہ چل رہا ہے جو بہت حیران کر دینے والا ہے اس کی بات کرنے سے پہلے کہ کیا ایسا ہوگا بھی یا پھر نہیں ہم تھوڑی سی اور گفتگو کرتے ہیں
جیسا کہ جہاز جب ابھی نہیں بنا تھا تو کسی کو اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا بلکہ کوئی جانتا بھی نہیں تھا اس بارے میں کسی ایک شخص نے سوچا ہوگا پھر اس نے بات کی ہوگی اور پھر اس پر کام ہوا
اور یہ ٹیکنالوجی اپ کے سامنے ہے بالکل اسی طرح جب ابھی کمپیوٹر نہیں بنا تھا تو کوئی شخص اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور شاید بہت کم لوگ ہوں جنہوں نے اس کے بارے میں سوچا تھا پھر یہ بھی جہاز کی طرح اج ہمارے سامنے ہے
ہماری زندگی میں ایسی بہت ساری مثالیں ہیں کہ جن کے بارے میں سوچنا بھی ناممکن تھا لیکن وہ اج موجودہ دور میں وجود رکھتی ہیں جیسا کہ فریزر موٹر سائیکل موبائل وغیرہ ان سب چیزوں کے بعد اس سوال کی طرف اتے ہیں جو کہ اج کل چل رہا ہے
کہ کیا ہم دماغ سے کمپیوٹر چلا سکتے ہیں؟
دیکھیے جو چیز ابھی بنی ہی نہ ہو اس کے بارے میں سوچنا بہت مشکل ہوتا ہے اور پھر اس پر یقین کرنا اور بھی مشکل ہوتا ہے اخر کوئی تو وجہ ہے کہ کچھ سائنس دان اس کو بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو چلیے پہلے ہم اس وجہ کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں
سائنس دانوں کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہم دماغ سے کمپیوٹر چلا سکیں گے؟
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دماغ کے نیورانز برقی سرگرمیاں پیدا کرتے ہیں سائنس دانوں کو لگتا ہے کہ ہم ان برقی سرگرمیوں کو کیپچر کر کے ان کو ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کر کے کمپیوٹر چلا سکیں گے اسی ٹیکنالوجی کو کہا جاتا ہے برین کمپیوٹر انٹرفیس ٹیکنالوجی
ایک اور سوال کہ کیا ہم دماغ کی سبھی سرگرمیوں کو ڈیجیٹل فارم میں تبدیل کر سکیں گے؟
نہیں ایسا فی الحال ممکن نہیں ہے کیونکہ دماغ بہت پیچیدہ ہے اور اس کی حدود ان چیزوں کو پڑھنے کی اجازت نہیں دیتی لہذا یہ بہت مشکل ہے کہ دماغ کی سبھی باتوں یعنی نیوران کے برقی سگنلز کو کیپچر کر کے ان کو ڈیجیٹل فارم میں تبدیل کیا جا سکے لیکن فی الحال ہم دماغ کی محدود سرگرمیوں سے کمپیوٹر کو کنٹرول کر سکتے ہیں
فائدے
معذور لوگ
ایسے لوگ جو معذور ہیں ان کی ویل چیئر کے ساتھ اس طرح کے کمپیوٹر کو سیٹ کر دیا جائے گا جو ویل چیئر کو کنٹرول کریں لہذا وہ لوگ اپنے دماغ سے ویل چیئر کو کنٹرول کر پائیں گے اپنی مرضی کے مطابق وہ ادھر ادھر جا سکیں گے
مفلوج لوگ
لوگ جو چل پھر نہیں سکتے بول نہیں سکتے ان کے دماغ کہ مخصوص سگنلز کو ڈیجیٹل فارم میں کنورٹ کیا جا سکے گا
نتیجہ
فی الحال اس پر کام ہو رہا ہے اور سائنسدان کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے ہیں اور اگر وہ پوری طرح سے کامیاب ہو گئے
برین کمپیوٹر انٹرفیس ایک ایسی ٹیکنالوجی ہوگی کہ معذور افراد میں زندگی کے ایک نئی لہر پھونک دے گی اور وہ بھی اپنی زندگی کو کچھ کچھ عام لوگوں کی طرح جی پانے کے قابل ہو جائیں گے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں